مسافر کے حق میں سنن رواتب کا حکم
سوال
(۱) مسافر کے لئے سنتوں کا کیا حکم؟ (۲) زید کہتا ہے کہ سفر میں سنتیں نفل کے حکم میں ہیں کیا یہ صحیح ہے؟ (۳) ایک صاحب کا کہنا ہے کہ مسافر کے لئے سنتیں معاف ہیں آیا ایسا کہنا کیسا ہے؟ (۴) سفر کے علاوہ اور بھی کسی حالت میں سنتیں معاف ہیں؟ مذکورہ چاروں جزئیات میں علماء دیو بند کا کیا خیال ہے مطلع فرمائیں؟
جواب
حدیث پاک میں سنتوں کی تاکید آئی ہے اور بلا عذر تارک السنۃ کے لئے شفاعت سے محرومی کی وعید ہے کہ جہاں تک ہو سکے سنتوں کی پابندی کریں، مسافر اگر تشویش اور انتشار کی حالت میں نماز پڑھتا ہے جیسے پلیٹ فارم پر گاڑی کا وقت قریب ہے، مسافروں کا ہجوم ہے یا کسی جگہ چلتے چلتے بس ٹھہری اور بہت جلد روانہ ہو جانے والی ہے، تو ایسی حالت میں وہ فرائض پر اکتفاء کرے کہ شریعت نے اس کی سہولت کی خاطر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔