الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسافت سفر میں اعتبار صرف جانے کا ہے یا آنے کا بھی

سوال

یہاں سے ضلع صدر جانے کے دوراستے ہیں ایک پچیس کوس دوسرا چوبیس کوس کا، چوبیس کوس والے راستہ سے جائے اور پچیس کوس والے راستہ سے واپس آئے تو اس پر واپسی میں قصر ہے یا نہیں اور جو پچیس کوس والے راستہ سے جاوے اور چوبیس کوس والے راستے سے آوے تو اس پر قصر ہے یا نہیں۔ ہمارے یہاں تین کوس چار میل کا ہوتا ہے۔ معتکف بخدمت شریف شاہ حبیب الله از خانقاه مانکپور ضلع پرتاپ گڑھ ۲۷ جمادی الاولی ۵۷

جواب

قصر نماز کے لئے تین یوم کی مسافت کا سفر ضروری ہے اور یہ مسافت صرف ایک طرف کی ہے آنے اور جانے کی مجموعی مسافت نہیں۔ پس صورت مسئولہ میں دونوں راستوں میں سے کسی ایک سے آنا جانا ہو یا دونوں سے دونوں صورتوں میں قصر جائز نہیں البتہ اگر کسی جگہ کے دو راستے ہوں ایک مسافت قصر ہو اور دوسرا نہ ہو تو جس راستہ سے سفر اختیار کرے گا اس کا اعتبار ہو گا آنے میں جانے میں بھی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو