جمعہ میں سجدہ سہو
سوال
نماز جمعہ میں اگر امام کو سہو ہو جائے تو اس پر سجدہ سہو لازم آتا ہے یا نہیں یہ جو مسئلہ مشہور ہے کہ نماز جمعہ وعیدین میں بوجہ کثرت ازدحام سجدۂ سہو ساقط ہے کثرت ازدحام کی کیا تعریف ہے اگر امام کے ساتھ اس قدر آدمی ہوں کہ امام کی آواز ہر ایک کو یا اکثر کو سنائی دے تو ایسی حالت میں سجدہ سہو کرے یا نہیں اگر اس حالت میں سجدہ سہو کرے گا تو نماز صحیح ہوگی یا نہیں؟
جواب
نماز جمعہ میں اگر امام کو سہو ہو جائے اور ازدحام اس قدر ہو کہ مقتدیوں کو معلوم نہ ہو سکے کہ یہ سلام ختم نماز کا ہے یا سجدہ سہو کیلئے ہے اور اس سے مقتدیوں میں تشویش پیدا ہو جائے تو امام کو سجدہ سہو نہیں کرنا چاہئے، ولا يأتى الامام بسجود السهو في الجمعة والعيدين دفعاً للفتنة بكثرة الجماعة مراقي الفلاح ص ۳۷۹.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔