مغرب ووتر کے اعادہ کے وقت چار رکعت پڑھنا
سوال
بعض کتب میں دیکھا کہ اگر مغرب یا وتر میں سجدہ سہو واجب ہوا اور ادا کرنا یاد نہ رہا تو اعادہ کے وقت پوری ۴ رکعت پڑھے پس اس کی کوئی اصل ہے یا صرف اغلاط عوام سے ہے؟
جواب
اگر یہ کسی کتاب میں ہے تو اس کا منشا یہ ہوگا کہ ترک واجب سے سجدہ سہو لازم ہوتا ہے اور فرض ادا ہو جاتا ہے، اگر سجدہ سہو کر لیا تو جبر نقصان ہو گیا ورنہ اعادہ وقت کے اندر لازم ہوتا ہے اور بعد الوقت اعادہ کا وجوب ساقط ہو کر ندب باقی رہ جاتا ہے، تو اس پر ایسی نماز مندوب و نفل و مستحب ہوئی اور متنفل بالثلاث غیر مشروع ہے، لہذا ۴ رکعت بثلاث قعدات پڑھے کہ شامی اور بحر وغیر میں اس پر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔