ترویجہ میں احادیث سنانا
سوال
یہاں مسجد میں نماز تراویح میں ہر ترویجہ کے بعد کچھ حدیثیں سنائی جاتی ہیں، غرض اصلاح وتعلیم ہے، کچھ لوگ پسند کرتے ہیں اور بعض لوگ اس کو بدعت قرار دیتے ہیں، اور بند کرنے کو کہتے ہیں، کیا ایسا کرنا شریعت مطہرہ میں مداخلت سمجھا جائے گا، یا پسندیدہ؟ یہ طریقہ اس طرح دیگر مقامات میں بھی چل رہا ہے۔
جواب
یہ بہت اچھا طریقہ ہے اس سے بہت معلومات دین میں اضافہ ہوگا، کاش کہ سب لوگ اس پر متفق ہو جائیں، لیکن ان کو مجبور نہ کیا جائے اگر کوئی انکار کریں اور مسجد چھوڑنے پر آمادہ ہو جائیں تو پھر یہ طریقہ بند کر دیا جائے اور تراویح ووتر ختم ہونے کے بعد یا کسی دوسرے وقت حدیثیں سنائی جائیں جس کا دل چاہے بیٹھے اور سنے اور فائدہ حاصل کرے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔