ہر ترویجہ پر صلوۃ بر محمد
سوال
بعد چار رکعت نماز تراویح کے جو شخص صلوٰۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جہر کر کے نہ پڑھے بلکہ تسبیح اور درود شریف جو نماز میں تشہد کے بعد ہے، اس کو آہستہ پڑھ لے اس شخص کو برا کہنا اور اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنا کیسا ہے کیا یہ شخص قابل ملامت ہے یا نہیں، کیا الصلوٰۃ بر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ضروری جاننا اور کہنا کہ یہ شریعت میں حضور ﷺ سے ثابت ہے کیسا ہے؟
جواب
تراویح کی ہر چار رکعت کے بعد اختیار ہے کہ خاموش بیٹھے یا تسبیح و درود و تلاوت و ذکر وغیرہ پڑھے، یا تنہا نفل پڑھے کسی چیز کی پابندی نہیں اہل مکہ اس وقت طواف کرتے ہیں: يجلس ندبا بين كل اربعة بقدرها وكذا بين الخامسة والوتر ويخيرون بين تسبيح وقراءة وسكوت وصلوة فرادى اه در مختار واهل مكة يطوفون واهل المدينة يصلون اربعاً اه .
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔