الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تراویح میں تسبیحات

سوال

تراویح میں تسبیحات پڑھتے ہیں، وہ آپ کی خدمت میں روانہ کی ہے، اس لئے ان کا پڑھنا جائز ہے یا نہیں الصلوة سنة التراويح رحمكم الله ہر تراویح کے دوگانہ کے بعد اس دعا کو ایک بار پڑھیں فضل من الله ونعمته ومغفرته ورحمته وعافيته والسلام لا اله الا الله والله اكبر الى آخرہ بعد میں تراویح کے تین بار پڑھیں، اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له الی آخرہ امام کے دعاء مانگنے کے بعد یہ پڑھیں ”اللهم صلى على سيدنا الخ“ دعامانگنے کے بعد اس کو ایک بار پڑھیں خلیفہ رسول الله بالتحقیق اور چوتھی کے بعد پڑھیں۔

جواب

آپ نے جو تسبیحات کاغذ پر لکھیں ہیں ان کا پڑھنا نہ حدیث شریف سے ثابت ہے نہ فقہاء نے کتب فقہ میں ہے، اس لئے جو تسبیح فقہاء نے لکھی ہے، اس کو پڑھیں یا درود شریف پڑھیں، اور استغفار میں مشغول رہیں جہاں تک ہو سکے آہستہ پڑھیں، جو طریقہ رواج پکڑ چکا ہے، وہ ثابت نہیں ہے، اس کی اصلاح کریں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو