عشاء سے قبل چار رکعت
سوال
قبل العشاء چار رکعت سنت کے بارے میں حضور والا کی رائے معلوم ہوئی حضور والا سے مراجعت کے بعد ہدایہ کے حاشیہ پر مندرجہ ذیل عبارت نظر آئی ارسال خدمت کر رہا ہوں کہ صحیح اور سقم کا حق حضور والا ہی کو حاصل ہے اگر چہ مراراً حضرت کی نظر پڑی ہوگی۔ سنن سعید بن منصور من حديث البراء رفعه مَنْ صَلَّى قَبْلَ الْعِشَاءِ أَرْبَعاً كَانَ كَأَنَّمَا تَهَجَّدَ مِنْ لَيْلَةٍ وَمَنْ صَلَّاهُنَّ بَعْدَ الْعِشَاءِ كَمَنْ صَلَّاهُنَّ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أخرجه البيهقي من حديث عائشة رضى الله تعالى عنها موقوفاً واخرجه الدار قطني…
جواب
عشاء سے قبل چار رکعت پڑھنے کی روایت کتب حدیث میں مجھے نہیں ملی، آپکے فرستادہ حوالہ کو میں نے تلاش کیا، متون حدیث میں کہیں نہیں پایا، فقہاء ومحدثین نے لکھا ہے۔ الحاصل قبل العشاء چار سنت کا ذکر کتب حدیث میں نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔