نماز روشنی میں ہو یا اندھیرے میں
سوال
ایک مسجد میں بجلی کی روشنی کا معقول انتظام ہے اور رات میں برابر روشنی ہوتی ہے لیکن فرض نماز کے وقت امام صاحب روشنی بجھا کر نماز با جماعت بلکہ نماز تراویح بھی پڑھتے ہیں دریافت کرنے پر فرمایا کہ حضور ﷺ نے اکثر اندھیرے میں نماز ادا فرمائی ہے۔ یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تیل نہ ہونے کی وجہ سے اندھیرے میں نماز ادا فرمائی ہے نیز یہ سوال ہے کہ روشنی کی موجودگی میں روشنی بجھا کر اندھیرے میں نماز پڑھنا کیسا ہے۔
جواب
یہ مسئلہ شرعی نہیں۔ بتی بجھا کر اندھیرے میں نماز پڑھنے کی کوئی تاکید نہیں بوقت ضرورت بقدر ضرورت روشنی کرنا ضروری اور اس میں نماز پڑھنا بلا کراہت درست اور ثابت ہے بلا ضرورت اور ضرورت سے زائد روشنی کرنا اسراف میں داخل اور ممنوع ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔