الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غلط لقمہ دینے کی تفصیل

سوال

مقتدی نے امام کو تعداد رکعات کے اندر غلط لقمہ دیا اور امام نے لقمہ نہیں لیا تو لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہوئی یا نہیں؟ یا کسی اور قسم کا غلط لقمہ دیا۔ اگر ما یجوز بہ الصلوۃ کے مطابق قرآت کر چکا ہے۔ پھر قصداً دوسری جگہ سے قرآت کرنے لگتا ہے یا نسیانا دوسری جگہ منتقل ہو جاتا ہے تو سجدہ سہو واجب ہے یا نہیں؟ اگر ما یجوز بہ الصلوٰة کے مطابق قرآت نہیں کی ہے اور قصداً یا سہواً منتقل ہو گیا تو سجدہ سہو واجب ہے یا نہیں؟

جواب

اگر مقتدی نے عمداً غلط لقمہ نہیں دیا تو اس کی بھی نماز فاسد نہیں ہوئی، ما يجوز بہ الصلوة قراءت کے مطابق یا اس سے پہلے اگر ایک جگہ سے دوسری جگہ میں قراءت کی، قصداً یا نسیانا تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوئی الا یہ کہ معنی بگڑ جائیں، مثلاً إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وعملوا الصالحات کے بعد بغیر وقف کئے دوسری جگہ سے اُولئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمُ فيها خالدون پڑھ دیا تو معنی بگڑ گئے اور…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو