امام کو لقمہ دینے کا طریقہ
سوال
ہماری مسجد کے امام نے عصر کی نماز پڑھی اور چوتھی رکعت میں بجائے بیٹھنے کے سہواً کھڑے ہو گئے، تو کسی مقتدی نے اللہ اکبر کہدیا تا کہ وہ اپنے سہو پر مطلع ہو جائیں۔ نماز پوری کر لینے کے بعد امام صاحب نے بتایا کہ مسئلہ یہ ہے کہ امام سہو کرے تو اس کو سُبْحَانَ اللہ کے ذریعہ تنبیہ کرنا چاہئے اور اللہ اکبر کہنا جائز ہے اور انھوں نے ترمذی شریف ص ۴۸ کو حضرت مغیرہ بن شعبہ کے عمل کو دلیل میں پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ جب ان سے سہو ہوا تو فَسَبَّحَ بِهِ مَنْ خَلْفَهُ روایت میں ہے۔
جواب
عبد الرحمن بن ابی لیلی کے علاوہ دیگر طرق سے بھی یہ روایت مروی ہے جن میں وجہ ضعف موجود ہے اور خود اس کا ضعف بھی ہو جاتا ہے۔ ترمذی شریف کے صفحہ محولہ پر ملاحظہ ہو۔ امام سے اگر سہو ہو جائے تو اس کو یاد دلانا چاہئے اور یاد کے لئے سبحان اللہ کہنا چاہئے خواہ قیام کی جگہ قعود ہو یا برعکس ہو، لیکن اگر امام دورکعت پر بیٹھنے کے بجائے کھڑا ہو گیا تو اب اس کو یاد نہ دلائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔