الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قعدہ اولیٰ میں قعدہ اولی کے طویل ہونے میں لقمہ دینا

سوال

امام قعدہ اولی اور تشہد میں جتنا روز بیٹھتا ہے آج اس سے زیادہ بیٹھا تو مقتدی کو شبہ ہو گیا کہ امام کو سہو ہو گیا۔ اس نے سبحان اللہ کہدیا اور امام کھڑا ہو گیا اور اس نے سجدہ سہو بھی کر لیا۔ نماز کے بعد ایک صاحب نے کہا کہ امام جب تک سلام شروع نہ کرے لقمہ نہ دینا چاہئے۔ تو اس شخص کا کہنا صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

مقتدی امام کو لقمہ دینے میں جلدی نہ کرے اور محض شبہ کی بنیاد پر لقمہ نہ دے۔ کمافی الطحطاوی محض معمولی سے کسی قدر تشہد کے ختم ہونے میں تاخیر ہو جانے سے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ امام کو سہو ہو گیا اور اس نے تشہد کے بعد درود شریف بھی پڑھ لیا، بلکہ ہو سکتا ہے کہ معنی کی طرف دھیان کرنے سے یا کسی دوسری حضوری کی کیفیت کی وجہ سے تاخیر ہوگئی ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو