الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لقمہ دینا

سوال

امام صاحب جمعہ کی نماز پڑھا رہے ہیں نہ تو وہ عالم ہیں نہ ہی حافظ قرآن محض چند سورتیں یاد کر لی ہیں۔ امام صاحب نے جمعہ کی نماز میں آخری رکعت میں ایک سورہ تیسویں پارہ کی ملائی جو تین آیتوں سے زیادہ آیتوں کی تھی، ان کو تین آیتوں کے بعد متشابہ ہونے لگا۔ تین بار کے بعد ایک مقتدی جو حافظ قرآن تھے انھوں نے لقمہ دیا اور امام صاحب نے آگے پڑھ کر نماز پوری کی۔ دو عالم اس جماعت میں تھے، انھوں نے اپنی دلیلیں پیش کرنا شروع کیں۔

جواب

امام اگر اٹک جائے یا اس کو متشابہ لگ جائے تو مقتدی کو چاہئے کہ لقمہ دینے میں جلدی نہ کرے تا کہ امام خود نکال لے یا رکوع کردے۔ یا دوسری جگہ سے پڑھ دے، جلدی میں لقمہ دینا مکروہ ہے۔ امام کو بھی چاہئے کہ وہیں اٹکا نہ رہے کسی اور جگہ سے پڑھ دے، وہیں اٹکے رہنا اور بار بار اسی کو پڑھنا امام کے لئے مکروہ ہے۔ یہ اصل مسئلہ ہے اس کے باوجود جب مقتدی لقمہ دے تو مقتدی کی نماز فاسد نہ ہوگی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو