الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کو دوبارہ پڑھنا

سوال

زید نے سورہ فاتحہ مستقیم تک پڑھا اور پھر زید نے صرف اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ دوبارہ پڑھ کر سورہ فاتحہ کومکمل کیا تو ایسی صورت میں جب کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کو مکرر پڑھ لیا گیا تو نماز میں کوئی خرابی پیدا ہوئی یا نہیں جب کہ سجدہ سہو وغیرہ نہیں کیا گیا آپ دونوں طرح کا جواب لکھئے یا عمداً کیا ہو یا شک کی وجہ سے؟ (۲) بعض آدمی نماز میں رکوع سے کھڑے ہو کر سجدہ میں جاتے وقت زانوں سے کپڑا اٹھاتے ہوئے یا سمیٹتے ہوئے سجدہ میں جاتے ہیں دونوں ہاتھوں سے کیا اس سے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

عمداً اهدنا الصراط المستقیم کو دوبارہ پڑھا ہو یا شک کی وجہ سے، بہر صورت سجدہ سہو واجب نہیں نماز ہو گئی۔ (۲) اگر معمولی حرکت سے کپڑے کو درست کرتے ہیں تا کہ سجدہ آسانی سے ہو جائے کوئی تنگی نہ ہو تو بھی نماز ہو جائے گی نا جائز نہیں ہوگی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو