الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قرآت بغیر آواز کا حکم

سوال

اگر کوئی نماز میں اتنا آہستہ پڑھے کہ خود بھی نہ سن سکے تو کیا اس کی نماز بلا کراہت درست ہے۔

جواب

اگر اتنا آہستہ پڑھا کہ حروف تو صحیح ادا ہو گئے لیکن آواز بالکل نہیں سنائی دی تو کرخی اور ابوبکر بلخی کے نزدیک نماز صحیح ادا ہو گئی اور ہندوانی اور فضل کے نزدیک صحیح نہیں ہوئی۔ کیونکہ ان کے نزدیک صرف صحیح حروف کافی نہیں بلکہ آواز کا کان تک پہنچنا بھی ضروری ہے اور شیخ الاسلام و قاضی خاں و صاحب محیط و حلوانی نے ہندوانی کے قول کو اختیار کیا ہے۔ کذا فی رد المختار ص ۵۵۷۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو