تین آیت کی مقدار
سوال
امام صاحب نے تروایح کی اول رکعت میں فاتحہ کے بعد خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ فَبِأَيِّ الآى رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ اور دوم رکعت میں فاتحہ کے بعد رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ فَبِأَيِّ الآى رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ پڑھ کر نماز پوری کی اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب
اس کی نماز فاسد نہیں ہوئی بلکہ درست ہوگئی۔ وضم اقصر سورة كالكوثر او ما قام مقامها وهو ثلاث آيات قصار نحو ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ اَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرُ وكذالو كانت الاية اوايتان تعدل ثلاثا قصاراً اھ در مختار قوله تعدل ثلاثا قصارا اى مثل ثم نظر الخ.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔