سلام سہو میں مسبوق کا اتباع امام
سوال
زید نماز جماعت میں مسبوق ہے اور امام کو سجدہ سہو کرنا پڑا زید نے بھی سہواً امام کے ساتھ دائیں طرف سلام پھیر دیا اور امام کے ساتھ سجدہ سہو کیا بعد ازاں امام نے نماز ختم کردی زید نے کھڑے ہو کر اپنی بقیہ رکعت پوری کر لی۔ آیا زید کو دوبارہ سجدہ سہو کرنے کی ضرورت تھی یا نماز کا اعادہ کرنا چاہئے تھا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
جواب
صورت مسئولہ میں زید کی نماز صحیح ہو گئی اعادہ کی ضرورت نہیں اور ایسی حالت میں مسبوق کو امام کے ساتھ سجدہ سہو کرنا تو ضروری ہے لیکن سجدہ سہو کے لئے سلام میں امام کا اتباع ناجائز ہوتا ہے اگر قصداً امام کے ساتھ سلام پھیر لیا تو مسبوق کی نماز فاسد ہوجائے گی اور سہواً پھیرنے سے فاسد نہ ہوگی اور زید نے صورت مسئولہ میں سہواً سلام پھیرا ہے اس لئے نماز فاسد نہیں ہوئی اور بحالت اقتداء…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔