سجدہ سہو کے سلام میں مسبوق کا حکم
سوال
نظام کے پچھلے شمارے میں یہ فتویٰ شائع ہوا تھا کہ سجدہ سہو کا سلام اگر مسبوق نے قصداً امام کے ساتھ پھیر لیا تو مسبوق کی نماز فاسد ہو جائے گی اس پر عوام تو در کنار بعض اہل علم بھی خلجان میں پڑ گئے لہذا براہ کرم عبارت محولہ تحریر فرما کر مطمئن فرمائیں۔
جواب
متن در مختار میں ہے والمسبوق يسجد مع امامه اس پر ردالمحتار ص ۴۹۹/ ج ۱ / میں لکھا ہے قید بالسجود لانه لا يتابعه في السلام بل يسجد معه ويتشهد فاذا سلم الامام قام الى القضاء فان سلم فان كان عامداً فسدت والا لا اھ یہ مسئلہ بحر شرح کنز ص ۱۰۸ رج ۲ ر اور بدائع ص ۱۷۶ / ج ۱ میں بھی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔