مسبوق نے سجدہ سہو میں امام کے ساتھ سلام پھیر دیا
سوال
ایک آدمی مسبوق ہے اور امام کو سجدہ سہو لاحق ہو گیا امام نے سجدہ سہو کے لئے سلام پھیرا ہے مسبوق کو یہ بات یاد نہ رہی کہ میں مسبوق ہوں یا مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے امام کے ساتھ سلام پھیر دیا ان سب صورتوں میں مسبوق کی نماز ہوگئی یا نہیں؟ اگر بھول کر پھیرا ہو تو کسی صورت میں جائز ہے اور کس میں نہیں؟
جواب
اگر مسبوق نے بھول کر سلام میں امام کا اتباع کیا ہے تو اس سے اس کی نماز میں نقصان نہیں آیا۔ اگر جان کر قصداً یعنی اتباع کیا ہے تو اس کی نماز فاسد ہوگئی۔ (تنبيه) یہ یاد ہوتے ہوئے کہ میں مسبوق ہوں مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے سلام پھیرنا سہو میں داخل نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔