کیا حق امامت اور نکاح خوانی وراثت میں منتقل ہوتا ہے
سوال
ہمارے یہاں ایک شخص ہے جو کہ صوم وصلوٰۃ کا پابند نہیں اس شخص کے دادا مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے اور گورنمنٹ سے منظور شدہ قاضی تھے اپنے یہاں وہی عیدین کی نماز اور نکاح خوانی کے فرائض انجام دیتے تھے۔ ان کے اندر ان کاموں کو انجام دینے کی لیاقت تھی۔ اب قاضی صاحب تو مرحوم ہو چکے بہت مدت ہوئی بلکہ ان کے لڑکے کا بھی انتقال ہو چکا ہے۔ اب ان مرحوم کے پوتے دعوی کرتے ہیں کہ عیدین وغیرہ کی نماز پڑھانا یہ ہمارا خاندانی کام ہے۔
جواب
امامت کا مستحق وہ ہے جو طہارت اور نماز کے مسائل سے واقف ہو، صحیح العقیدہ ہو، قرآن کریم صحیح پڑھتا ہو متبع سنت، پابند شریعت ہو اگر مرحوم امام صاحب کے پوتے میں یہ چیزیں موجود ہیں تو بہتر ہے ان کو ہی امام رکھا جائے۔ ایسے شخص کے پیچھے عالم حافظ سب کی نماز درست ہو جاتی ہے کوئی نزاع نہ کیا جائے۔ اگر یہ صفات موجود نہ ہو تو محض سابق امام کے پوتے ہونے کی وجہ سے اپنا حق قائم نہ کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔