الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام صاحب نہ آئیں تو کیا نماز الگ الگ پڑھیں

سوال

وقتی نماز کیلئے ہم تقریباً پچاس مسلمان مسجد شریف میں ہوتے ہیں۔ اگر بد قسمتی سے امام صاحب حاضر نہیں ہوتے تو ہم سب علیحدہ علیحدہ نماز پڑھتے ہیں حالانکہ اس جماعت میں پڑھے لکھے بھی ہوتے ہیں۔ مگر یہاں کے مسلمان ایک دوسرے پر الزامات سچے جھوٹے لگاتے ہیں اور ان پڑھے لکھے مسلمانوں کو قابلِ امامت نہیں سمجھتے کیا یہ مسلمان کا طریقہ جائز ہے اور ہم ان کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

جب امام صاحب کو کوئی ضرورت پیش آجائے جس کی وجہ سے وہ جماعت کے وقت مسجد تشریف نہ لاسکیں تو ان کو چاہئے کہ کسی مناسب آدمی کو ہدایت کر دیں کہ وہ نماز پڑھا دے سب کا بلا جماعت نماز پڑھنا بڑی کوتاہی ہے۔ اگر امام صاحب کسی کو تجویز نہ کریں تو نمازی خود ہی اپنے میں سے جو زیادہ اہل ہو اس کو امام بنا کر جماعت سے پڑھا کریں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو