الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام کا بضرورت کسی کو اپنا قائم مقام بناد بینا!

سوال

کوئی شخص کسی مسجد میں امامت کرتا ہو اور ایک ماہ کے لئے کسی وجہ سے گھر جاتا ہو اور اپنی جگہ ایک شخص کو عارضی طور پر رکھ دیا اور باہم یہ معاہدہ ہوا تھا کہ تم جب تک گھر سے نہیں آؤ گے میں تمہاری جگہ پر کام کروں گا اس شخص کو اپنی جگہ پر رکھ کر چلا گیا اور کسی اہم معاملہ کے پیش نظر گھر سے تین چار روز کے بعد آئے اور گھر سے سابق امام نے عارضی امام کو اطلاع کر دیا کہ میں سخت پریشان ہوں انشاء اللہ تعالیٰ بہت جلد آ رہا ہوں جواب میں عارضی امام لکھے کہ کوئی بات نہیں تم اپنی پریشانی کو دیکھتے ہوئے جلد آنے کی کوشش مت کرو میں آپ…

جواب

جب قدیم امام آگیا تو عارضی امام کو مسجد چھوڑنا یعنی امامت سے علیحدہ ہونا لازم ہے، زبر دستی قبضہ جمانا چھوڑنے کے لئے کوئی بھی شرط لگانا جائز نہیں اس کی حمایت کرنا بھی جائز نہیں۔ غلط حمایت کر کے تفرقہ ڈالنا تو بہت بڑا جرم ہے کسی کی بد گوئی بھی گناہ ہے امام صاحب کو لازم ہے کہ وقت کی پابندی کرے اگر اتفاقیہ طور پر دیر ہو جائے تو مقتدی لوگ کسی متبع سنت کو امام بنا کر اس کے پیچھے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو