الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

متولی کا امام کے علاوہ جمعہ کے لئے کسی اور کو آگے بڑھانا

سوال

بموجودگی مستقل امام صاحب جن میں تمام خوبیاں موجود ہیں حافظ قاری عالم حاجی وغیرہ، ایک خوش الحان آٹھ پاروں کا طالب علم سولہ سالہ متولی مسجد کی رائے سے امام صاحب کو رسمی اطلاع دی گئی کہ آج فرزند متولی صاحب یعنی خوش الحان آٹھ پاروں کا حافظ نماز پڑھائے گا نماز پڑھائی گئی۔ امام صاحب نے اجازت نہیں دی اور ان کا یہی کہنا ہے کہ کیا نماز جمعہ ادا ہوگئی کہ نہیں اور اقتدا درست ہوئی یا نہیں؟

جواب

ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ امام صاحب خود پیش کش کرتے تو دوسری بات تھی۔ امامت اس حالت میں مستقل امام مذکور ہی کی مقدم تھی تاہم اقتداء صحیح ہو کر صورت مسئولہ میں نماز درست ہو گئی اب اس قضیے کو ختم کیا جائے آئندہ احتیاط کی جائے بات کو زیادہ نہ بڑھایا جائے ورنہ اس سے خلفشار پیدا ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو