جو شخص اپنی امامت پر مصر ہو اور مقتدی نہ چاہتے ہوں اس کی امامت!
سوال
بہت سے مسلمان ایک شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھنا چاہتے لیکن وہ شخص نماز پڑھانے پر مصر ہے خون خرابہ کی نوبت ہو جاتی ہے یہاں تک کہ حکومت کو دفعہ ۱۴۴ نافذ کر کے عید گاہ میں نماز ادا کرنے سے روکنا پڑتا ہے اور اس شخص کی ضد پر قوم دو ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے عید کی نماز دو جگہ ادا کی جاتی ہے شریعت کی رو سے امام کا یہ عمل کیسا ہے؟ شرعی نقطہ سے ایسے مواقع پر امام کا کیا فرض ہونا چاہئے؟
جواب
جس شخص میں شرعی خرابی ہو جس کی وجہ سے نماز اس کے پیچھے ادا نہ ہوتی ہو اس کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے اس بناء پر اس کے پیچھے مسلمان نماز نہ پڑھنا چاہتے ہوں پھر بھی وہ نماز پڑھانے کے لئے ضد کرے تو شرعاً اس کی اجازت نہیں حدیث پاک میں سخت وعید آئی ہے اور اس کی وجہ سے جو تفرقہ پیدا ہو اس کی ذمہ داری اس شخص پر ہے اس کو لازم ہے کہ فوراً امامت کو ترک کر دے اور اپنی اصلاح کی طرف توجہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔