امام کو حقارت کی نظر سے دیکھنا
سوال
مقتدی پیش امام کو ہر وقت حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور تھوڑی سی بات پر تکرار کرنے بیٹھتے ہیں باوجود یکہ کچھ مسئلہ سے بھی واقف نہ ہوں اور اپنی طرف سے فتوی نکالتے ہیں اور مسجد میں آکر سوائے شروفساد کے کچھ مطلب نہیں تو ایسے مقتدی کا کیا حکم ہے اس کی نماز ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر ہوتی ہے تو کس درجہ کی؟
جواب
ان سب باتوں سے نماز فاسد نہیں ہوتی لیکن امام کو حقارت کی نظر سے دیکھنا اور بغیر واقفیت کے اپنی طرف سے فتوی دینا اور مسجد میں آکر شر وفساد کرنا کبیرہ گناہ ہے ایسے شخص کو توبہ لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔