الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ذاتی عداوت کی وجہ سے امام کو گالیاں دینا

سوال

کسی امام کے اتفاقی مکروہ الفاظ سے اہلِ جماعت ناراض ہو گئے اپنی غلطی کا اقرار اور توبہ الی اللہ کرتے ہوئے خواستگار معافی ہونے سے جماعت کی ناراضگی جاتی رہی، مگر ان میں سے ۲٫۳ لوگوں نے امام صاحب کو معزول کر دیا، تو باقی ۲٫۳ لوگ اور خود امام صاحب اس عزل پر معترض نہ ہوئے تا کہ نا مناسب فساد نہ اٹھے مگر ادائیگی تنخواہ کی غرض سے ایک ماہ سات دن رکنا اور رکھنا طے پایا مدت متعینہ کے لئے دو شخصوں نے جن کی عادت شرکت جماعتِ خمسہ کی پہلے سے نہ تھی امام مذکور کی اقتداء کو مکروہ سمجھ کر نماز جمعہ چھوڑ دی۔

جواب

جب امام صاحب نے اپنی غلطی کا اقرار کر کے معافی مانگ لی تو پھر ان سے ناراض رہنا بے محل ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا ترک کر دینا غلط ہے اور جس نے امام صاحب کو گالیاں دے کر شارع عام پر شور مچایا اور سخت الفاظ کہے وہ سخت گنہگار ہوا معمولی مسلم کو بھی گالی دینا فسق ہے چہ جائے کہ امام کو اس پر توبہ کرنا اور امام صاحب سے معافی مانگنا واجب ہے یہ گالیاں دینا ذاتی عداوت کی وجہ سے ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو