حدیث شریف کی توہین کرنے والے کی امامت
سوال
ایک شخص مسجد سے نکل کر جا رہا تھا اور دنیا کے مال واسباب کی تعریف کر رہا تھا، دوسرا شخص مسجد میں تھا۔ مسجد والے شخص نے باہر جانے والے سے کہا کہ حضور ﷺ کی حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ جس نے دنیا کے مال کو مال کہا اس کا آگے مال نہیں اور دنیا کے گھر کو گھر کہا اس کا آگے گھر نہیں، تو باہر جانے والے نے لوٹ کر جواب دیا (نعوذ باللہ) حدیث گئی ایسی تیسی میں۔ ایسا کہنے والے کے متعلق کیا حکم ہے؟ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب
اس نے بہت سخت بات کہی۔ جب تک وہ نادم ہو کر سچی پکی توبہ نہ کرے اس کو امام نہ بنایا جائے۔ بحر عالمگیری وغیرہ میں اس کا حکم سخت لکھا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔