الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جس امام کے بیٹے گنہگار ہوں اس کی امامت

سوال

ہمارے علاقہ میں ایک حافظ صاحب ہیں ان کی تین اولاد ہیں۔ بڑا بیٹا بلیک مارکٹنگ کرتا ہے منجھلا بیٹا ڈاکو کے نام پر اپنے اطراف میں مشہور ہے۔ مذکورہ حافظ صاحب اپنے ان دونوں بیٹوں سے برابر مل جُل کر رہتے ہیں۔ اب وہ ایک محلہ اور علاقہ کے امام ہیں، ان کی زبان بہت ہی کڑوی ہے۔ دنیوی مال ومتاع کے بہت حریص بھی ہیں۔ ادنی شئی کے لئے وہ لوگوں کے دل دکھانے کو گناہ نہیں سمجھتے ہیں۔ ان کے مال اور شخصی قوت کے بہت زور دار ہونے کی وجہ سے طوعاً وکرہاً لوگ ان کا اتباع کرتے ہیں۔

جواب

امام ایسے شخص کو تجویز کیا جائے جو اوروں سے زیادہ علم دین رکھتا ہو، صحیح قرآن شریف پڑھتا ہو متبع سنت ہو گناہوں سے بچتا ہو، اگر نمازیوں میں تو یہ اوصاف موجود ہوں لیکن امام ان سے خالی ہو یعنی نہ علم دین زیادہ رکھتا ہو نہ قرآن شریف صحیح پڑھتا ہو نہ متبع سنت ہو نہ گناہوں سے بچتا ہو تو پھر ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے بیٹوں کے گناہوں کا وبال والد پر اس وقت ہے کہ وہ ان کے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو