جس امام کی لڑکیاں بے پردہ ہوں اس کی امامت
سوال
جس شخص کے والدین اس سے ناراض ہوں اور جس نے اپنی جوان لڑکیوں کو نامحرم اشخاص کے یہاں رکھ رکھی ہوں اور اس کو سمجھایا جاتا ہے تو گمراہی کے الفاظ زبان سے ادا کرتا ہے۔ ایسے شخص کی امامت کا کیا حکم ہے؟
جواب
سوال میں والدین کے ناراض ہونے کی وجہ ذکر نہیں کی گئی لہذا اس کے متعلق بیان نہیں کیا جاسکتا۔ نامحرم اشخاص سے پردہ فرض ہے اور نامحرم کے ساتھ خلوت حرام ہے۔ پس اگر شخص مذکور اپنی جوان لڑکیوں کو نامحرم سے پردہ کرانے پر قادر ہے اور پھر پردہ نہیں کراتا تو گنہگار ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔