داڑھی کٹے کی امامت تراویح میں
سوال
داڑھی کترواکر ایک مشت سے کم رکھنے والے کے پیچھے نماز تراویح پڑھنا مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے۔ نیز شرعی ڈاڑھی کی کیا مقدار ہے۔ حدیث کے حوالہ کے ساتھ رقم فرمائیں۔
جواب
اصول فقہ چار ہیں۔ کتاب، سنت، اجماع، قیاس جس اصل سے بھی جو مسئلہ ثابت ہو اور ثبوت بھی عبارۃ النص، اشارة النص، دلالة النص، اقتضاء النص جس طرح بھی ہو وہ قابل تسلیم ہے۔ کسی ایک دلیل میں منحصر قرار دیکر اس دلیل کا مطالبہ منصب مقلد کے خلاف ہے اور مجیب اس کا مکلف بھی نہیں اس بنیادی تمہید کے بعد عرض ہے کہ امام محمد نے کتاب الآثار میں حضرت ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ ایک مشت داڑھی رکھنا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔