مرتکب کبائر کی امامت
سوال
ایک شخص کسی محلہ کی مسجد میں امام ہے اکثر اوقات محلہ کے لوگوں کے ساتھ غیبت کیا کرتے ہیں بہت باتوں میں جھوٹ کہنا بھی ثابت ہوا۔ عفیفہ عورت پر زنا کی تہمت لگائی کسی وغیرہ ناشائستہ الفاظ کہے۔ چنانچہ ایسی بے گناہ عورت پر تہمت زنا لگانے کی وجہ سے ایک دفعہ سرکاری عدالت میں مقدمہ دائر ہو کر ماخوذ ہو کر قانونا جرم ثابت ہونے کے بعد تھیں روپیہ جرمانہ بھی دیا ہے اور بھی بعض بعض باتیں مثلاً بیگانہ عورتوں کے سینہ پر ہاتھ پھیرنا۔ چوتڑ پر تھپڑ مارنا۔
جواب
غیبت کرنا کسی پاکدامن پر تہمت لگانا وغیرہ گناہ کبیرہ ہیں اور ایسے امور کا مرتکب فاسق ہے اور فاسق کی امامت مکروہ تحریمی ہے اگر کوئی بہتر امامت کا اہل آدمی موجود ہو تو امور مذکورہ کے مرتکب کو امام نہ بنانا چاہئے بلکہ دوسرے شخص کو امام بنانا چاہئے۔ اگر یہ شخص صدق دل سے توبہ کرلے اور اپنی ایسی حرکتوں سے باز آجائے تو پھر اس کی امامت بھی مکروہ نہ ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔