الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دکان کی مشغولی میں مغرب کی نماز دیر سے پڑھنا

سوال

ایک شخص ہے جو تجارت کرتا ہے جب مغرب کا وقت ہوتا ہے تو وہ دوکاندار نماز پڑھنے مسجد چلا جاتا ہے اور اپنی جگہ پر دوکان چلانے کے لئے دوسرے آدمی کو بٹھا دیتا ہے جب دوکاندار نماز پڑھ کر آ جاتا ہے تو اس دوسرے آدمی کو نماز پڑھنے کے لئے بھیج دیتا ہے جس نے ابتک نماز مغرب نہیں پڑھی ہے، اس طرح کرنے سے نماز کا آخری وقت ہو جاتا ہے، ہر روز عادة ایسا ہی کرتا ہے تو کیا اس طرح کرنے سے اس کی نماز درست ہو جاتی ہے یا نہیں؟

جواب

اعلیٰ بات یہ ہے کہ ہر نماز با جماعت مسجد میں جا کر تکبیر اولی سے شریک ہو کر ادا کی جائے، مغرب کی نماز اتنی تاخیر سے مسجد میں جا کر پڑھنا کہ ستاروں کا ہجوم ہو کر آخر وقت ہو جائے مکروہ تحریمی ہے۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ کسی کو ساتھ ملا کر دوکان پر وقت مستحب میں ہی جماعت کر لی جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو