جس نے فعل بد کیا ہو اس کو مسجد میں آنے سے روکنا
سوال
ایک شخص خوب تہجد گزار تھا اور مسجد میں روزانہ نماز میں ۱۵ منٹ پہلے آتا اور آدھے گھنٹہ بعد مسجد سے جاتا تھا، ایک دن اس کو ایک لڑکے کے ساتھ زنا کرتے ہوئے پکڑا، اس نے معافی مانگی اس کو چھوڑ دیا گیا، اس کے باوجود پھر اس نے وہی حرکت کی اور اس کو پکڑ لیا گیا، اس نے خود بھی اقرار کر لیا لیکن معافی نہیں مانگی، زنا مسجد کے قریب کمرہ میں کیا گیا، لوگوں نے اس کو مسجد میں آنے سے روک دیا، اب وہ مسجد میں نہیں آتا گھر میں نماز پڑھتا ہے۔ لوگوں نے اس کو مسجد میں آنے سے روکا، شریعت کی حیثیت سے اچھا کیا یا برا کیا؟
جواب
مسجد میں آنے سے اور نماز پڑھنے سے اس کو نہ روکا جائے۔ البتہ اس کا انتظام کیا جائے کہ پھر وہ خبیث حرکت نہ کرنے پاوے، وہ صرف فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لیا کرے، اس لئے عین جماعت کے وقت آوے اور فرض پڑھ کر فورا چلا جائے، سنن ونوافل مکان پر جا کر پڑھا کرے، خدا تعالی ہدایت دے کہ وہ اس فعل سے باز آ جائے۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم حرره العبد محمود غفرلہ دار العلوم دیوبند
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔