ب : ۔امام کی قراءت اور تسبیح کا اعتبار ہوگا
سوال
زید امام ہے اور اکثر اس سے قرآت میں متشابہ یا بھول ہوتی ہے، اور یہ متشابہ یا بھول کبھی ما یجوز بہ الصلوۃ کے بعد اور کبھی اس سے پہلے ہوتی ہے، زید متشابہ لگنے پر پیچھے سے پڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کوشش میں سکتہ واقع ہو جایا کرتا ہے، اس کی مقدار کبھی تین تسبیح اور کبھی اس سے کم ہوتی ہے، سوال یہ ہے کہ: ألف: کیا اس صورت میں سجدہ سہو لازم آتا ہے یا نہیں؟ ب: امام کی قراءۃ اور اس کی تسبیح کا اعتبار کیا جائے گا یا مقتدی کی تسبیح کا؟
جواب
ألف: اگر یاد نہیں آیا کہ کیا پڑھے اور تین تسبیح کی مقدار خاموش سوچتا رہا تو سجدہ سہو لازم ہوگا۔ ب: امام کی قراءت اور تسبیح کا اعتبار ہو گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔