غروب سے پہلے اذان ہو جائے اس کا حکم
سوال
امام صاحب کی گھڑی میں دو منٹ باقی تھے مغرب کی اذان میں مگر قاری صاحب نے اذان پڑھوا دی جب کہ امام صاحب نے منع کیا تھا مگر وہ نہیں مانے۔ جب مؤذن حی علی الفلاح پر پہونچے تب سائرن ہوا، اس پر امام صاحب نے کہا دو منٹ رک جاؤ، قاری صاحب اس سے پہلے بھی امام صاحب کی اجازت کے بغیر نماز پڑھا چکے تھے اور پہلے امام صاحب کو ہٹایا ہے، ان قاری کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
جواب
غروب آفتاب سے پہلے مغرب کی اذان جائز نہیں اگر اذان وقت سے پہلے ہوگئی تو اس اذان کا اعادہ لازم ہے۔ اور نماز مغرب غروب سے پہلے جائز نہیں۔ اس طرح پڑھنے سے نماز ادا نہیں ہوئی۔ ضد کی وجہ سے مخالفت کر کے امامت سے الگ کر دینا بہت بیجا اور غلط حرکت ہے۔ لازم ہے کہ آپس میں صلح وصفائی کر کے ہر ایک اپنی غلطی کی دوسرے سے معافی مانگے اور غلط طریقہ چھوڑ کر صحیح طریقہ اختیار کرے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔