الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دونوں جانب سے شرط لگانا درست نہیں

سوال

ایک طالب علم نے دوسرے طالب علم سے فرمایا کہ اگر میری بات سچی نکلی تو تم مجھے پیٹ بھر کر مٹھائی کھلانا اور اگر تمہاری بات سچی نکلی تو میں پیٹ بھر کر مٹھائی کھلاؤں گا، اس طرح یہ شرط دونوں کے درمیان لگی، اتفاق سے ایک کی بات صحیح نکلی تو کیا دوسرے طالب علم پر پیٹ بھر مٹھائی کھلا نا ضروری ہے۔ نوٹ: جس طالب علم کی بات صحیح نکلی ہے، اس طالب علم کو پکا یقین تھا، کہ میری بات صحیح نکلے گی، کیوں کہ وہ ایک مرتبہ دیکھ چکا تھا، تو ایسی صورت میں ان صاحب پر مٹھائی واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

اس شرط کا معاملہ شرعاً درست نہیں، اور اس صورت میں مٹھائی کھلانا واجب نہیں کما فی رد المحتار۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو