لاٹری کا حکم
سوال
(۱) آج کل ہندوستان میں مختلف صوبائی حکومتوں نے مختلف انعامات کے ساتھ لاٹری شروع کر رکھی ہے، اور ان کو انتہائی دیانتداری کے ساتھ نکال کر ان کی تقسیم بھی کرتی ہے، اگر کسی مسلمان کو یہ انعام نکل جائے تو تعمیر پر صرف کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ (۲) نیز یه پیسه کسی اسلامی مدرسه یا مسجد میں صرف کر سکتے ہیں یا نہیں؟ (۳) نیز اس پیسے کو اپنی ذات خاص پر صرف کرنا کیسا ہے؟
جواب
انعامی لاٹری کا یہ سلسلہ خلاف شرع ہے ہرگز اس میں حصہ نہ لیا جائے، اگر غلطی سے حصہ لے لیا ہے اور روپے مل گئے ہیں، تو اس کو بلانیت ثواب غریبوں محتاجوں کو صدقہ کر دیا جائے جن میں نادار طلبہ بھی داخل ہیں، مسجد یا مدرسہ یا اپنے ذاتی کام میں صرف نہ کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔