الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مقررہ رقم جمع کرنے پر قرعہ اندازی

سوال

ایک طریقہ تجارت با قاعدہ اسکیم کے تحت تقریباً پوری دنیا میں چل رہا ہے، ہمارا ہندوستان بھی اس میں ملوث ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی تاجر یا کوئی کمپنی یا کوئی پارٹی ممبر سازی کرتی ہے، مثلاً کوئی سائیکل اسکیم چلاتی ہے، اس سائیکل کی اصل قیمت ۱۵۰۰ روپئے ہے، اس صورت میں ۵۰ / روپے ماہانہ کے بیس ممبر بنائے جاتے ہیں، اور ایک ماہ میں ایک مرتبہ قرعہ اندازی کی جاتی ہے، اس قرعہ میں جس ممبر کا نام نکل جاتا ہے، اس کو صرف ۵۰ روپے میں سائیکل مل جاتی ہے، اس طرح ہر ماہ قرعہ اندازی میں نام نکلنے والے کو سائیکل ملتی رہے گی، یہ صورت…

جواب

یہ معاملہ شرعاً درست نہیں، وقت عقد ثمن مبیع متعین ہونا چاہئے وہ یہاں متعین نہیں بلکہ مجہول ہے کمی زیادتی ظاہر ہے کہ جتنی رقم دی ہے اس پر زیادتی کونسے عقد کی بناء پر ہے، اس کو قمار بھی کہا جا سکتا ہے اور ربوا بھی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو