حدیث قضاء عمری
سوال
قضاء عمری اس خیال سے پڑھی کہ تمام سال کی نماز جو فوت شدہ ہیں اس کے پڑھنے سے معاف ہو جاتی ہیں درست ہے یا نہیں؟ قضاء عمری اس صورت سے پڑھی جاتی ہے دو رکعت نفل با جماعت۔ کیا یہ نماز شریعت اسلامی میں ثابت ہے؟ فقہ کی کونسی کتاب میں لکھی ہوئی ہے اور حدیث کی کسی کتاب میں ہے یا نہیں؟
جواب
یہ نماز شرعاً ثابت نہیں۔ نوافل کو جماعت سے پڑھنا مکروہ ہے۔ دو رکعت اس طور سے پڑھ کر یہ اعتقاد رکھنا کہ اس سے عمر بھر کی فوت شدہ نمازیں معاف ہو جاتی ہیں بالکل اصول شرع کے خلاف ہے جو فرض نماز فوت ہوئی ہے اس کی قضا فرض ہے جو واجب نماز فوت ہوئی ہو اس کی قضا واجب ہے جو سنت نماز فوت ہوئی ہو اس کی قضا سنت ہے قضاء الفرض والواجب و السنة فرض وواجب وسنة، لف و نشر مرتب وجميع أوقات العمر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔