طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ کی تشریح
سوال
حدیث شریف میں آیا ہے۔ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ اس علم دین کی کتنی مقدار مراد ہے؟ مفصل جواب تحریر فرماویں۔
جواب
جتنی مقدار کے ذریعہ سے عقائد حقہ اخلاق فاضلہ فرائض وواجبات اور محرمات کو سمجھا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔