تہتر فرقہ والی حدیث پر اشکال
سوال
سرچشمہ ہدایت منبع علم و فضل، سلام مسنون آپ کا مختصر سا جواب مجھ جیسے کم فہم انسان کی ہدایت کے لئے نا کافی ہے، خاص طور سے وہ حدیث جو جناب نے وضاحت کے طور پر تحریر فرمائی ہے، یعنی جس طریقہ پر اعتقادی، عملی،اخلاقی حیثیت سے میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں، جو فرقہ اس طریقہ پر رہے گا نجات پا جائے گا۔
جواب
آپ کے سوال کا حاصل یہ ہے کہ اقوال صحابہ میں تضاد ہے اور یہ تضاد ہی امت میں فرقہ بندی کا سبب بنا ہے حتیٰ کہ امت کے تہتر فرقے ہو گئے صرف ایک فرقہ ناجی ہے اور بہتر فرقے جہنمی ہیں ان سب کی نہیں تو زیادہ تر کی نسبت رسول اکرم ﷺ کی طرف کی گئی ہے لہذا فرقہ ناجیہ تو وہ ہوگا جو کہ حضرت رسول مقبول ﷺ کے طریقہ پر ہوگا پھر حضور نے یہ کیوں ارشاد فرمایا کہ جس طریقہ پر میں ہوں اور میرے صحابہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔