الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تحقیق مجدد

سوال

مصدر فیض و کرم جناب مہتم صاحب مدرسہ مظاہر علوم دام فیضۂ السلام علیکم روحمۃ اللہ و برکاتہ (۱) حدیث مجدد کہ صرف ابوداؤد میں آئی ہے، کیا اس کو علماء حدیث نے لفظا صحیح سمجھا ہے۔ (۲) کیا ہر صدی کے ابتداء یا آخر میں مجدد کا ہونا ضروری ہے کیا مجددصدی کے درمیان میں نہیں آ سکتا۔ (۳) کیا یہ ضروری ہے کہ مجدد ہر صدی میں ضرور ہی ہو۔ کیا مجدد خدائی عہدہ ہے کیا یہ ضروری ہے کہ مجدد اپنے دعویٰ کا اظہار کرے؟ (۴)

جواب

(۱) حديث : ” إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَادِ يُنَهَا کی حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے مدخل میں تصحیح کی ہے۔ علامہ سیوطی نے لکھا ہے۔ اتفق الحفاظ على انه حديث صحيح ملا علی قاری مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ج ۱ رص ۲۳۸ میں فرماتے ہیں و سندہ صحيح ورجاله كلهم ثقات۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو