استماع وانصات کی فروع
سوال
إِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ “ عام ہے یا خاص اگر خاص ہے تو وقت بتلائیے اگر عام ہے تو۔ (الف) ایک شخص صبح کی نماز کے لئے مسجد میں گیا وہاں جماعت ہورہی تھی یہ سنت میں مشغول ہو گیا۔ (ب) یا کوئی شخص مسجد میں ایسے وقت گیا کہ تروایح شروع ہو گئی اور یہ جا کر فرض علیحدہ پڑھتا ہے۔ (ج) یا صبح جمعہ کی نماز عذر سے یا سہواً قضاء ہو گئی۔ جمعہ کے وقت عذر رفع ہوا۔ (د) ایسی صورتوں میں اگر یہ نماز میں قرآت کرتا ہے تو آیت مذکورہ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا یا نہیں؟ (۳) مقتدی سکتہ امام کے وقت سورۂ فاتحہ پڑھ سکتا ہے یا نہیں۔
جواب
آیت وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَانْصِتُوا الظاہر عام ہے مگر علماء کے اس میں چند اقوال ہیں۔ اول یہ کہ جب حضور ﷺ قرآن کریم کی تلاوت فرمائیں۔ نزول قرآن کے وقت تو اس کو خاموشی سے سنو۔ دوسرے یہ کہ یہ مقتدی کے حق میں ہے اور یہ جمہور صحابہ کا قول ہے۔ تیسرے یہ کہ خطبہ کے لئے ہے۔ (۱)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔