گراموفون میں قرآن کریم بھرنا اور اس کی تجارت کرنا
سوال
گراموفون کے ریکارڈوں میں آیات قرآنی و نعتیہ غزلیں کہ جن میں حضور سرور کائنات فخر موجودات ﷺ کا نام نامی اور آپ کے محامد ومعجزات ہوں بھرنا یا بھروانا اور پھر وہ حسن فروش طوائفوں کے کوٹھوں اور شراب خانوں میں اور بازاروں میں یا عیش و نشاط کے وقت کوٹھی بنگلوں میں بجائے جاتے ہیں کیسا ہے؟ (۲) جو لوگ قراء یا حفاظ سے آیات قرآنی کو اجرت دیکر بھرواتے ہیں ان کا فعل کیسا ہے اور یہ اجرت لینا دینا جائز ہے یا حرام ہے؟ (۳) جو لوگ اجرت دے کر ایسے ریکارڈ بھرواتے ہیں اور پھر اس کی تجارت کرتے ہیں یہ تجارت جائز ہے یا حرام ہے؟ (۴)
جواب
(۱) گراموفون آلات لہو و لعب میں سے ہے اس لئے قابل احترام مضامین اس میں بھرنا اور محض تفریح طبع کے طور پر سننا اور بجانا نا جائز ہے خصوصاً مذکورہ مقامات پر بجانا نہایت ہتک حرمت کا باعث ہے اس لئے اس سے اجتناب ضروری ہے۔ (۲) یہ فعل اور اجرت بھی ناجائز ہے کیونکہ اس سے قرآن کریم کی ہتک اور بے حرمتی ہوتی ہے۔ (۳) اسی طرح یہ تجارت بھی نا جائز ہے۔ (۴و۵)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔