الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سات سال سے لبن منقطع ہونیکے بعد حرمت رضاعت کا کا حکم

سوال

مسماۃ فاطمہ بیان کرتی ہے کہ مجھے تقریباً سات سال سے بچہ پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی میرے پستان میں دودھ نکلتا تھا، بوجہ ضرورت اپنے دیور کی بچی مسماۃ راجہ جو اس وقت ڈھائی سال کے اندر تھی میرے پستانوں کو دو ایک مرتبہ چوسا لیکن میرے پستانوں سے کچھ نہ نکلا۔ راجہ کی والدہ نے فاطمہ بی بی کو اس طرح کرنے پر اعتراض اسی وقت کیا کہ کسی وقت آپس میں اپنے بچوں بچیوں میں نکاح کر سکتے ہیں۔ فاطمہ بی بی نے جواباً کہا کہ میرے پستانوں سے کچھ نکلنا ممکن نہیں۔ ضرورت کے وقت حکم شریعت معلوم کیا جائے گا۔

جواب

جب دودھ کا حلق کے اندر اترنا ثابت نہیں اس لئے کہ پستان میں دودھ موجود ہی نہیں تو حرمت رضاعت بھی ثابت نہیں، لہذا اس نکاح میں تامل کی ضرورت نہیں۔ امرأة كانت تعطی

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو