الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شادی میں نیوتہ

سوال

اس ملک کا رواج ہے کہ دلہا کی جب برات چلنے لگتی ہے تو دلہا کے آگے ایک برتن رکھا جاتا ہے اور اس میں ہر شخص کچھ رقم رکھتا ہے اس کو نیوتہ کہا جاتا ہے پھر یہ رقم دلہا یا اس کے ورثہ لیتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟ نیز اس کی اصل شریعت میں پائی جاتی ہے یا نہیں؟ مولانا اشرف علی تھانوی نے بدترین گناہ کہا ہے اور یہ مولوی صاحب اس رسم کو صلہ رحمی کہتے ہیں، اس شرع کا کیا حکم ہے اور ایسے عالم صاحب کا کیا حکم ہے جو خود کریں اور عوام جہلا کو ایسی بدعات کا حکم دیں ایسے عالم صاحب کا شریعت میں کیا حکم ہے؟

جواب

اگر یہ بطریق اعانت کے ہو اور ریا کاری نام ونمود وغیرہ کچھ نہ ہو تو شرعاً درست بلکہ مستحسن ہے مگر طریقہ مروجہ کی حیثیت سے بجز رسم ورواج کے کچھ نہیں اور بسا اوقات برادری کے زور یا رسوائی کے خوف سے دیا جاتا ہے بلکہ اگر پاس نہ ہو تو قرض یا سودی لے کر دیا جاتا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو