نکاح میں دف اور گولہ
سوال
بیاہ شادی میں دو چار گولہ اور دف کا استعمال کرنا کیسا ہے ہمارے یہاں کے بعض علماء فرماتے ہیں جائز ہے اور بعض کہتے ہیں کہ نا جائز ہے۔ لہذا دریافت طلب امر اس وقت یہ ہے کہ عوام کس کے قول پر عمل کریں؟ اگر بالکل نا جائز ہو اور کوئی شخص اس فعل کا مرتکب ہو اس کا کیا حکم ہے اور اگر جائز ہے تو کسی مقدار تک جائز ہے اور کب تک بجا سکتا ہے؟ مدلل مفصل تحریر فرماویں۔
جواب
اعلان نکاح کے لئے دف بجانا بشرطیکہ اس میں جلاجل نہ ہوں نیز ہیئت تطرب پر نہ بجایا جائے محض اعلان اور تشہیر کیلئے بجایا جائے شرعاً درست ہے، گولہ کا استعمال اضاعت مال اور نا جائز ہے۔ لا بأس بالدف ليلةالعرس. يجب ان يكون بلاسنجاب وجلاجل اھ مجموعة الفتاوی دف بھی صرف عورتوں کو بجانا جائز ہے مروجہ طریقہ نا جائز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔