نکاح میں ڈف کا حکم
سوال
نکاح کے وقت دف بجانے کا (یعنی دھپڑا بجانا جو کہ بھنگی بجاتا ہے) اکثر فقہاء سے طبل کا جواز بھی معلوم ہوتا ہے۔ اس میں قول فیصل کیا ہے۔ ایسی شادی میں شرکت جائز ہے یا نہیں؟ طبل کی کیا حقیقت ہے؟
جواب
کے کلام سے جواز بلکہ استحباب معلوم ہوتا ہے اور تکملہ فتح القدیر سے اصل مقصود اعلان نکاح ہے اور دف اس کا ایک ذریعہ ہے۔ بعد حصول مقصود ذریعہ کی تحصیل بے سود ہوتی ہے۔ کتب فقہ وحدیث میں دف کی اسی حیثیت سے اباحت یا ترغیب مذکور ہے اور دیگر بعض ائمہ کے نزدیک اعلان لازم ہے بغیر اس کے نکاح صحیح نہیں ہوتا مگر ان کے نزدیک گواہ شرط نہیں اور حنفیہ نے گواہ شرط ہونے کی وجہ سے اعلان کو مستحب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔