زوجہ کی رضا مندی کے بغیر مہر ساقط نہیں ہوتا
سوال
ہندہ نے ثالث مقرر کر کے زید کے پاس بھیجا اور زید کو بہت کچھ سمجھایا لیکن زید پر کچھ اثر نہ ہوا ثالث نے شرع کے مطابق زید سے فیصلہ کرنے کو کہا اور نان ونفقہ طلب کیا زید نے جواب دیا شرعی فیصلہ اس حالت میں ہوتا ہے جب کہ شرع پر عمل کیا جائے اس حالت میں نان ونفقہ ومہر دیا جا سکتا ہے۔ اب نئی تہذیب میں نفقہ ومہر کہاں؟ ثالث نے زید سے کہا کیا تم اللہ اور رسول اور قرآن پر ایمان رکھتے ہو؟ کہا کہ ضرور لیکن جب مجھ کو آرام نہیں ملا لہذا نفقہ ومہر نہیں دوں گا۔
جواب
جو کلمات زید نے کہے ہیں نہایت سخت ہیں اور جو کلمات بکر نے کہے ہیں اور بھی خطرناک ہیں ایسا کہنے سے ایمان جاتا رہتا ہے لہذا زید اور بکر ہر دو کو تجدید ایمان اور تجدید نکاح احتیاطاً لازم ہے۔ اذا قال الرجل لغيره حكم الشرع في هذه الحادثة كذا فقال ذالك الغير من برسم کارمیکنم نه بشرع يكفر عند بعض المشائخ الخ.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔