زانیہ کی لڑکی کا نکاح شریف لڑکے سے
سوال
ایک شریف اور اچھے گھرانے کی لڑکی کے ناجائز حمل قرار پا جاتا ہے۔ (جس سے حمل قرار پایا وہ مرد کافر تھا) لیکن اس لڑکی کی شادی بچی پیدا ہونے کے چھ ماہ بعد ایک شریف لڑکے سے ہو جاتی ہے۔ اس وقت اس ناجائز طرح سے پیدا ہونے والی لڑکی کی عمر ۱۶ / سال ہے۔ لڑکی سمجھ دار پڑھی لکھی نمازی ہے، دیندار ہے، اسلام کو سمجھتی ہے۔ کیا ایسی لڑکی سے کوئی بھی شریف اور اچھے گھرانے کا لڑکا شادی کر سکتا ہے؟
جواب
جولڑکی اپنی ماں کی غلطی کی وجہ سے غلط (ناجائز) صورت حال سے پیدا ہوئی اور اب وہ بالغ ہوکر نیک دیندار شریف ہے اور اس سے کوئی شریف لڑکا شادی کرنا چاہتا ہے تو اس کو شادی کرنا درست ہے۔ ماں کی غلطی کی وجہ سے اس لڑکی کی شادی میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔